Gold and degrees.

وہ بہت دل لگا کہ پڑھا کرتی تھی۔ فارغ وقت میں بھی پڑھتی تھی۔ ناول۔ کہانیاں۔ وہ کہانیاں اسے بہت پسند تھیں جس میں ہیروئن ساری زندگی صدمہ تو برداشت کر لیتی ہے لیکن بالآخر اس کی تکلیف کا ازالہ ہو جایا کرتا۔

‎جب اس کے امتحانات ہوتے وہ دنیا سے کٹ جاتی۔ دنیا کی تمام پریشانیاں بھول جاتی۔ گھر والوں کے جھگڑے۔ لوگوں کی باتوں کا خوف۔ اس کی اپنی ذات سے وابستہ وہ تمام باتیں جنہیں سوچ سوچ کے وہ اکثر افسردہ ہوجایا کرتی۔ وہ سب کچھ ان کتابوں کے پنوں میں گم ہوجاتا۔ اسے یاد رہتے تو بس وہ لمبے صفحے، وہ فارمولے، وہ تھیوریاں، ان اجزا کے نام جن سے کچھ نئے اجزا ترتیب دئیے جاتے۔ کتنی رنگین تھی یہ دنیا۔ اس میں سب کچھ کتنا سیدھا سادھ تھا۔ دو جمع دو چار۔ سفید سفید اور کالا صرف کالا۔

‎نتیجے آئے تو اسے سونے کا میڈل ملا۔ اس نے امتحانات میں ٹاپ کیا۔ بہت چہکتے ہوئے بولی۔ دیکھا۔ میری زندگی ویسی ہی ہے نا! جیسے میں ناول میں پڑھتی ہوں۔۔۔ بہت مشکل امتحان تھے، لیکن میری محنت رنگ لائی۔

اس کے دوستوں نے گریجوشن کے بعد کے پلان بنانے شروع کر دئیے۔کسی کا شادی کا ارادہ تھا۔ کسی نے مزید آگے پڑھنے کا پلان بنایا۔ کسی نے بریک لینے کی بات کی۔ مگر اس نے نوکری کا فیصلہ کیا۔ اس کو معلوم تھا کہ گھر والوں کو یہ بات خاص پسند نہیں آئے گی۔ مگر پھر بھی اس نے اپنے بڑے بھائی سے سفارش کروا کے گھر والوں کو منوا لیا تھا۔ گھر والوں نے کہا تھا اچھے نمبر لاؤ گی تو نوکری کی اجازت مل جاۓ گی۔

‎نوکری شروع ہونے پہ وہ خوش ہوئی اور فخریہ سب کو بتاتی پھرتی کہ اب وہ ایک کماؤ پوت ہو گئی ہے۔ کسی پہ بوجھ نہیں۔

‎لیکن زندگی بہت عجیب چیز ہوتی ہے۔ ختم کسی کی ہوتی ہے اور اس کے اختتام کا اثر سب سے زیادہ کسی اور پہ پڑا کرتا ہے۔ اس کی نوکری کے کچھ دن بعد ہی اس کے والدین کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا۔  ابھی وہ اس صدمے سے بہار آ ہی نہ پائی تھی کہ باقی خاندان والوں نے \”جلد از جلد شادی کر دو\” کا ورد شروع کر دیا۔ محلے ہی کے ایک پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرنے سے ایک لڑکے سے اس کی بات طے کر دی گئی اور سال بعد شادی کر دی گئی۔

‎پھر وہی ہوا جو ہر شادی کے بعد ہوتا ہے۔ روز کی روٹی۔ بچے۔ بچوں کے اسکول۔ خاوند کے کپڑوں، جوتوں کا خیال رکھنا۔ ساس سسر کے ساتھ وقت گزرنا۔ شام کی چاۓ۔ اسی طرح کئی سال گزر گئے۔ایک دن میں بھی اس سے ملنے گئی۔ دیکھا تو ہر کام وہ خود کر رہی تھی۔ برتن، کپڑے، جھاڑو، کھانا، بچوں کی دیکھ بھال۔ حیرانی ہوئی۔ اتنا بڑا گھر۔ اتنی آمدنی۔ اور کوئی نوکر چاکر نہیں۔ اور گھر والوں کے سارے کام ایک ہی لڑکی کر رہی تھی۔ \’اصل میں امی (ساس) کو کسی کا کام کرنا اچھا نہیں لگتا۔ گھر میں نوکر نہیں رکھتیں۔\’ سوال کیا تم سے پہلے نوکر تھا۔ جواب ملا ہاں۔ اور پھر لمبی اور کئی جوابات سے پر خاموشی۔

‎بہت دن ہوگئے ملاقات نہیں ہوئی اس سے دوبارہ۔ ایک آدھ دن پہلے اس کو فون کیا ۔ کہہ رہی تھی  اب کچھ کرنے کا سوچ رہی ہے۔ شاید کچھ کر پاۓ ۔ شاید نہیں۔ کہتی ہے خوش ہے۔ خاوند نے کہا ہے اسے عمرہ کرنے لے جا رہے ہیں۔ہر سال کہیں باہر لے جاتے ہیں۔

‎ہم پُرانے قصے یاد کرنے بیٹھ گئے۔ \”تمہیں یاد ہے جو ناول میں پڑھتی تھی؟\” میں نے کہا ہاں۔ جس میں محنت رنگ لاتی ہے۔ \”اب سوچتی ہوں تو ہنسی آتی ہے،\” اس نےہنستے ہوئے کہا۔ \”رنگ تو کچھ نہیں لاتا۔ بس جو ہونا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔\”

‎عورتوں کی زندگی سے شادی اور بچوں کے علاوہ کیا امید ہوتی ہے، یہ تو کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے۔ مذاقاً ہی لوگ بات کہہ دیتے ہیں، \”ارے شادی ہوگئی، بچے ہوگئے اب کیا کرنا ہے!\” کچھ عورتوں نے تو اس مذاق کو زندگی کی سنجیدگی ہی سمجھ لیا ہے۔ والدین نے ان کو اچھی طرح بتا دیا ہے کہ اگر ان کا میڈکل کالج میں ایڈمشن نہ ہوا تو ان کے لئے اچھے رشتے نہیں آییں گے۔ پھر قصور ان خواتین کا بھی تو ہے جو اپنے بیٹوں کے لئے ڈاکٹر بہو ڈھونڈتی ہیں۔ یہ سوچ کر کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتی ہیں کہ ان کے بیٹی کی قیمت ایک ردی کا ٹکرا ہی تو ہے؛ کیونکہ در اصل اس ایم بی بی ایس کی ڈگری کی اوقات یہ ہی رہ جاتی ہے۔۔۔ ایک پروفیشنل اور کوالیفائیڈ لڑکی اپنی ڈگری کو فائلوں میں چھپا دیتی ہے اور اپنے آپ کو آپ کا غلام بنا دیتی ہے۔

‎میں جانتی ہوں بہت سے گھرانے ایسے نہیں۔ اور بہت سے گھرانوں میں بیٹیوں کے کام کرنے اور اعلی تعلیم کو بہت اچھا امر سمجھا جاتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں بہو ایسی چاہیے جو اپنے کریر کو بھی جاری رکھے۔ بطور شہرت ایسی بہو ڈھونڈنا بہت کم لوگوں کے بس کی بات ہے۔

‎پاکستانی معاشرہ ایسا ہے جہاں خاندانی نظام بہت مضبوط ہے۔ مغربی نظام کی طرح شادی کے بعد لڑکا اور لڑکی لازماً اکیلے نہیں رہتے۔ بلکہ اکثر و بیشتر خاندان کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کے ساتھ مدد ملنا بہرکیف زیادہ آسان ہوا کرتا ہے۔ مغربی دنیا میں \’میٹرنٹی اور پیٹرنٹی  لیو\’ کا پہلو اس لئے بار بار اجاگر کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں والدین کو بچے اکیلے ہی پالنا ہوتے ہیں۔ ایسی طرح ملک سے باہر رہنے والے تارکین وطن خاندان بھی اسی کشمکش کا شکار رہتے ہیں۔ معاشی طور پہ خوشحال طبقہ تو ملازم رکھ لیتا ہے مگر مڈل کلاس خاندان ہیں جو ہر مہینے اتنا خرچہ نہیں اٹھا سکتے، ان کو بالاخر یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ عورت گھر پی رہے گی اور مرد کام کرے گا۔اور عورت بچوں کے بڑے ہونے کا انتظار کرتی ہے۔ ان حالات میں مائیں صرف وقت ہی کاٹ سکتی ہیں۔ دراصل افسوس سوچ پہ ہوتا ہے۔ بچوں پہ تو انسان سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔ مگر یہ چھوٹی اور گھٹیا سوچ، جس کی وجہ سے قابل عمل حالات میں بھی عورتوں کو زبردستی گھر بٹھایا جاتا ہے اور ان کو کام کرنے سے \’منع \’ کر دیا جاتا ہے، اور عورت کو سمجھایا جاتا ہے کہ اسی میں اس کی بھلائی ہے، یہی جہالت کی بنیادی وجہ ہے۔ ماں باپ تعلیم دے دیتے ہیں مگر عورت کو یہی سکھاتے ہیں کہ اس کی زندگی کی قدر تب ہی ہوگی جب وہ سسرال میں سُکھی ہوگی۔ اس بات پہ کوئی نہیں اڑا رہتا کہ ہم اپنی بیٹی کی شادی اس سے کریں گے جو اس کی تعلیم اور کیریر سے محبت کرے گا۔ جہیز میں لڑکی کو باقاعدہ تول کے بھیجا جاتا ہے کہ اس کی اصل عزت سب سے پہلے اشیا سے ہوگی، بعد میں جذبہ قربانی سے، پھر بیٹا پیدا کرنے کی صلاحیت سے اور پھر اگر اس کی سخصیت میں کچھ رنگ بچ جایں تو اس کے ہاں میں ہاں ملانے کے ٹیلنٹ سے۔

‎ہماری ماؤں نے اور ان کی ماؤں نے یہی زندگی گزاری ہے۔ کم عمری میں شادیاں ہو جایا کرتی تھیں۔ اور تعلیم کو تو چونچلا سمجھا جاتا تھا۔ آج کل تعلیم حاصل کرنا فیشن بن گیا ہے اور ڈگریاں کمیٹی پارٹیوں میں ہونے والے مقابلوں کا ایک موضوع ۔

‎کتنا ہی اچھا ہوتا اگر گولڈ میڈل ملنا واقعی ایک گولڈ کے سیٹ کے برابر ہوتا۔ اور برابر کیوں۔ زیادہ ہو۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ  ہمارے گھر کی ذمہ داریاں گھر کے مردوں کو بانٹنی آتیں۔ گھر میں ٹیبل لگانے سے لے کے بچے سنبھالنے تک کے کام مرد اور عورت برابری سے کیا کرتے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ اس پہ یہ سارے کام نہ تھوپے جاتے اور وہ ان کاموں کے بوجھ تلے اپنی ڈگری اور تعلیم کو دفن نہ کرتی۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کے اگر ہمارے معاشرے کے لڑکے اپنی بیویوں کے لئے اپنے گھر والوں سے یہ شرط رکھواتے کہ وہ ملازمت ضرور کریں گی۔۔۔ معاشی معاونت کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔۔۔ لیکن جو تعلیم ان عورتوں نے حاصل کی ہے ان کو صحیح جگہ استمعال کرنے کا بھرپور موقع انھیں دیا جاۓ۔۔

‎کتنا ہی اچھا ہو کہ اگر ہماری یہ تمام گولڈ میڈلسٹ بچیاں واقعی گولڈ میڈلسٹ ہی رہیں۔۔ اور محض گولڈ پہننے والی پتلیاں نہ بن جائیں۔

‎آج کے اخبار میں پڑھا کہ کراچی یونیورسٹی کے 238 طالب علموں نے گولڈ میڈل حاصل کیے۔ جس میں سے 80 فیصد لڑکیاں تھیں۔ کیا یہ گولڈ میڈل گھر کے برتنوں سے زیدہ تیز چمکیں گے؟ کیا یہ اسی فیصد لڑکیاں واپس گھر جا کے اپنے والدین سے اور اپنے ہونے والے ساس اور سسر سے یہ امید رکھ سکیں گی کہ جہیز میں بس یہی سونا کافی ہوگا؟ معلوم نہیں۔

This blog was originally published on Hum Sub.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s