Sanitary Napkins and Shame.

کچھ دن سے ایک یونیورسٹی کے باہر ہونے والے ایک مظاہرے پہ بحث سن اور دیکھ رہی ہوں۔ کالج کے طالب علموں نے دیوار پہ سینیٹری نیپکین لگائے اور ان پہ کچھ فکر آمیز جملے تحریر کئے۔

 بحیثیت عورت مجھے ان طالب علموں کے اس عمل پہ رشک آیا۔ ہمیں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ چونکہ ہم صنفِ نازک ہیں اس لئے ہمیں بہت سی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ \”دوپٹہ ایسے اوڑھنا، زیادہ میک اپ نہیں کرنا، اونچی ہیل نہ پہنو، زیادہ زور سے باتیں نہ کرو، اور ہاں حیض کے اوقات میں جمیز بانڈ کی اولاد بن جاؤ۔\”

مرد حضرات کو اس بات کا صحیح سے ادراک نہ ہو لیکن حیض کے متعلق عورت کی زندگی میں معاشرہ ایک طرح کی ایمرجنسی نافذ کئے رکھتا ہے۔ ہم عورتوں کے دماغ میں بیٹھا دیا جاتا ہے کہ حیض ایک \”ناپاک\” اور \”خراب\” چیز ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کسی کو معلوم پڑ گیا کہ آپ کو حیض آ رہا ہے  تو نا جانے وہ آپ کے بارے میں کیا سوچے گا۔ سینیٹری نیپکین ایسے کاغذوں میں لپیٹ کے خریدے جاتے تھے جیسے اس میں صحت اور صفائی کی اشیاء نہیں بلکہ چرس یا کوکین خریدی جا رہی ہے۔ ان حالات میں خوب دل لگا کے جھوٹ بولنا بھی جائز ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پہ اگر دوران حیض کوئی باہر چلنے کا کہے تو فوراََ کوئی بہانہ بنا لیں جیسے کہ پیٹ خراب ہے، سر میں درد ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسکے علاوہ حیض سے متعلق سوال کا جواب دینا بھی ایک غیر اخلاقی عمل گردانا چاہتا ہے۔ (کاش کہ کوئی سب کو بتلائے کہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ حیض سے جڑی کئی بیماریاں ہوتی ہیں، جن میں ڈپریشن کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔) لہٰذا ان پہ غور کرنا آپ کی اپنی صحت کے لئے ہی مفید ہے۔)

 

To read more please click here:

شرمندگی کے جھوٹے پیمانے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s