Speaking about Asma Jahangir at Pakistan Social Centre, Sharjah.

اسلام و علیکم خواتین و حضرات. میں بہت مشکور ہوں ذیشان ہاشم کی جنہوں نے مجھے موقع دیا کہ ہم مل کر عاصمہ جہانگیر کو خراج تحسین پیش کریں اور انکی سوچ اور میراث کو یاد کریں .
پاکستان بہت دلیر لوگوں کا ملک ہے. شاید اسلئے کیونکہ پاکستان کا وجود بذات ا خود ایک دلیری کی علامت ہے. پہلے برطانیہ کے راج سے لڑے. پھر ہندوستان سے الگ ہو کے پاکستانی بن گئے. لاکھوں کی تعداد میں ہجرت کر کے، املاک، مال، جائیدادیں، یہاں تک کے اپنے خاندانوں کے آدھے دھڑ تک ایک اور ملک چھوڑ کے کسی دوسرے ملک چلے جانا – یہاں بیٹھے سامعین کرام اس بات اور اس درد کو خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں، یقینن. قربانی اور بہادری پاکستان کی جڑوں میں موجود ہے. مرحوم عاصمہ جہانگیر صاحبہ، انہی قربانیوں اور اسی دلیری کی روشن دلیل ہیں.
مجھے یاد ہے میں جب میں ایک یونیورسٹی میں سوشولوجی پڑھا رہی تھی. پاکستان کی تاریخ کے بارے میں ١٨ سے ١٩ سال تک کے بچے اکثر ان روایتی باتوں کے زیر اثر ہوتے ہیں جو ہم نے شان اور مولا جٹ والی فلموں سے اخذ کیا ہوتا ہے. پاکستان کی تاریخ محمد بن قسم سے شروع کی جاتی ہے اور کشمیر پہ ختم کر دی جاتی ہے. جب میں نے اپنے شاگردوں سے پوچھا.. کہ بیٹا بتاؤ جوڈیشری کیسے کہتے ہیں یا پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کیا ہے، تو اکثر و بیش بچے خاموش ہو جاتے تھے. کچھ آدھے کچے پکے جواب دیتے تھے جن سے کلیجہ اور منہ کو آتا تھا. میرے ہاتھ ایک بہترین ڈاکومنٹری لگی جس میں پاکستان کی ولادت سے کچھ سال پہلے سے لے کے سنہ ٢٠٠٦ تک کے واقعات کو بہت خوبی سے سمجھایا گیا تھا. جب بات ڈکٹیٹرشپ کی آئی تو ڈاکومنٹری میں عاصمہ جہانگیر کا انٹرویو آیا. عاصمہ سادہ سے کپڑے پہنے اپنے آفس میں چل پھر رہی ہیں، اپنی پرانی دستاویز میں سے وہ تصویر دکھاتی ہیں جن میں وہ پولیس سے لڑ رہی ہیں اور ایک پولیس والی خاتون جب ان پہ لاٹھی چارج کرنا چاہتی ہیں تو عاصمہ ہنستے هوئے کہتی ہیں، ‘وہ چاہتی تھی مجھے مارنا – لیکن میں نے اسکے ہاتھ سے اسکا ڈنڈا چھین لیا.’
عاصمہ کے بارے میں جب بھی کچھ پڑھتی ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسی کوئی کہانی پڑھ رہی ہوں. جیسی کوئی فلمی کردار ہے جو ہماری اصل زندگیوں میں چل پھر رہا تھا. ایک واقعہ جو مجھے بہت حیران کن بھی لگا اور مزاحیہ بھی – وہ یہ تھا کہ جنگ گروپ نے عاصمہ جہانگیر پہ ایک دفع الزام لگایا کہ عاصمہ احمدی ہیں. یہ بات ٹی وی چینلوں کی دھواں دار آمد سے پہلے کی ہے. جنگ لاہورمیں باقاعدہ عاصمہ کے خلاف پروپیگنڈا ہوا. محمد حنیف لکھتے ہیں کہ عاصمہ نے اپنے بچے اٹھاے اور انہیں میر شکیل الرحمن کے گھر لے گئیں. وہاں ان سے فرمایا، ‘مجھے اگر کچھ ہوا تو یہ بچے تمہاری ذمہ داری ہیں.’ کتنی ہی عجیب بات ہے کہ سنہ ٢٠٠٠ میں عاصمہ کے خلاف جیو اور جنگ گروپ نے پھر ایک باقاعدہ کیمپین چلائی. اور چند ہی سالوں بعد یہ عاصمہ جہانگیر ہی تھیں جنہوں نے جیو کے لیے سپریم کورٹ میں مشاورت کا فریضہ سر انجام دیا.
عاصمہ جہانگیر کو ملک دشمن، اسلام دشمن اور نجانے کس کس کا دشمن ثابت کرنے کا زمہ اٹھایا گیا تھا. مگر سچ پوچھئے تو عاصمہ ہر پاکستانی کی اور ہر مسلمان کی دوست تھیں. بس شاید مسلہ یہ تھا کہ وہ انسان دوست بھی تھیں. انکے دل میں کشمیر کے مسلمانوں کا درد بھی اتنا ہی تھا جتنا کہ پاکستان میں موجود بلوچ مسلمانوں کا. انکی سوچ کچھ ایسی تھی کہ وہ کسی گروہ کے لئے یہ سوچ کر آواز نہیں اٹھاتی تھیں کہ یہ گروہ انکو بعد میں کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے یا نہیں. انہوں نے ان لوگوں کے لئے آواز اٹھائی جن کے لئے شاید کوئی بھی آواز نہ اٹھانا چاہتا تھا نہ ان سے منسلک ہونا چاہتا تھا. جب وہ بھٹا مزدوروں کے لئے آواز اٹھا رہی تھیں، وہ مزدور جنہیں چند روپیوں کے اعوذ خرید لیا جاتا ہے اور ساری زندگی ان س غلامی کروائی جاتی ہے ، تو کسی جج نے ان سے کہا کہ ان مزدوروں سے بہت بو آ رہی ہے. عاصمہ نے جواب دیا – آپ انہی مزدوروں کے لئے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں.
ہمارے یہاں تصور کیا جاتا ہے کہ ملک اور لوگوں اور ہمارے مذھب کا دوست وہی ہے جو ہم جیسا دیکھتا ہے. یعنی کشمیر کے مسلمانوں کے لئے اگر کوئی آواز اٹھاے گا تو وہ یقینی طور پہ ایک داڑھی والا ملا ہوگا. یا پھر آگرکوئی فلسطین پہ بات کرنا چاہتا ہو یا انکے لئے آواز اٹھانا چاہتا ہو تو لازمی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مجاہدہ ڈیکلر کرے. عاصمہ اسکی یہی بات شاید سب کو ہلا کے رکھ دیتی تھی. کہ اس نے یہ سستی اور غیر معیاری بائنری کو توڑ پھوڑ کے رکھ دیا تھا. عاصمہ در اصل ایک ایسی لبرل تھی جو انسان سے محبت رکھتی تھی اور شخصی آزادی پہ یقین رکھتی تھی. اس لئے اس نے حدود آرڈننس کے خلاف بھی اتنی ہی زور سے آواز اٹھائی جتنا کہ انہوں نے کشمیری مسلمانوں کے لئے. انہوں نے ماوراء عدالت قتلوں کی مذمت بغیر یہ سوچے کی کہ پولیس لبرل لوگوں کو مار رہی ہے یا مولویوں کو. جو غلط ہے وہ غلط ہے. عاصمہ کا اصول بس یہی تھا.
پاکستان میں ہر سال غیرت کے نام پہ ہزار سے زائید لوگ قتل کر دے جاتے ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے. عاصمہ نےصائمہ وحید نامی ایک لڑکی کا کیس بھی لڑا تھا – جس کے بعد خواتین کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اجازت دی گئی تھی. سائمہ کے باپ نے عاصمہ پہ الزام لگایا تھا کہ عاصمہ نے صائمہ کو اغوا کر لیا ہے. جبکہ صائمہ ارشد احمد نامی لڑکے سے شادی کرچکی تھیں اور انکے خاندان اس بات سے ناخوش تھے. عاصمہ نے صائمہ کا کیس لڑا بھی اور جیتا بھی. خواتین کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا عاصمہ کا شیوا تھا. ویمنز ایکشن فورم میں بھی عاصمہ نے خوب حصہ ڈالا. سڑک پہ نکلیں. زخمی ہوئیں. گالیاں کھائیں. مگر اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں.
ہمارے یہاں یہ جو تصورات ہیں جو ہم نے لوگوں کے لئے باندھ لئے ہیں، جن میں ہم چاہتے ہیں کہ ہر انسان اس پہ پورا اترے ورنہ ہم اس پی لعن تعن شروع کر دیتے ہیں، عاصمہ ان بتوں کو توڑنے والی ایک جی دار عورت تھی. اس نے ثابت کیا کہ سچ کا ساتھ دینے کے لئے آپ کو کسی طاقتور باپ کا بیٹا ہونے کی ضرورت نہیں. اس نے یہ شمع روشن کی کہ حق کا ساتھ دینے کے لئے آپ اکیلے چل بھی پڑیں تو کارواں ساتھ چلتا چلا جاۓ گا. آخر کیا وجہ ہے کہ عاصمہ کے گزر جانے کے بعد پوری دنیا سے انکے لئے تعزیتی پیغامات نشر هوئے. آخر کیا وجہ ہے کہ ملک کے ہر کمزور اور خاموش طبقے کو لگا کہ اس کے سر پی سے چھت اٹھ گئی؟ کیا وجہ ہے کہ عاصمہ کو پروگراموں میں بلایا جاتا تھا اور ان سے امید کی جاۓ گی کہ وہ وہ بات کرینگی جو کوئی اور نہیں کرنے کی جرات یا ہمت رکھتا؟ کیا وجہ تھی کہ وہ لوگ بھی ان سے مدد مانگنے آتے تھے جو ان سے شدید اختلاف رکھتے تھے؟
سوشل میڈیا کے زمانے میں عاصمہ کے خلاف تصویر پھیلا پھیلا کے عجیب سا پروپیگنڈا کیا گیا. ایک پروپیگنڈا یہ تھا جس میں وہ بال ٹھاکرے سے مل رہی ہیں اور پاکستانی بھائیوں نے اس تصویر پہ نت نئی کہانیاں ڈال کے مرچ مصالحہ لگا کے پیش کیا. وہ تو خدا بھلا کرے اسی کمبخت سوشل میڈیا کا جہاں جھوٹ بیچنا بھی اتنا ہی آسان ہے جتنا سچ کو سامنے لانا. عاصمہ نے کسی پرانے انٹرویو میں ان تصاویر پہ لب کشائی کی اور بتلایا کہ بال ٹھاکرے سے ملاقات وہ بحیثیت اقوام متحدہ کی خصوصی نمایندے کے طور پہ کر رہی تھیں. ہندوستان میں ہونے والے گجرات کے فسادات اور اسکے علاوہ ممبئی میں ہونے والے واقعات پہ وہ حقائق کی چھان بین کے لئے پہنچی تھیں، جسے ہمارے چند بھائیوں نے ایسا بنا دیا جیسے عاصمہ بال ٹھاکرے سے فرینڈ ریکویسٹ مانگنے آئی ہوں.
پھر یوں ہوا کہ عاصمہ کی ایک تصویر نمودار ہوئی جس میں وہ سگرٹ پی رہی ہیں. ہری نیلی سرخی میں کسی نے لکھا، ‘دیکھئے! عاصمہ جہانگیر کا اصل چہرہ!’ جیسے سگریٹ پینے سے عاصمہ کے انسان ہونے کا حق اس سے چھین لیا جانا چاہیے ہو. کمال یہ ہے کہ جب شیخ رشید سگار پیتے ہیں تو انکی تصویر ‘سویگ’ یا ‘ویری کول پنڈی بوئے ‘ کے ٹائٹل کے نام سے شیر کی جاتی ہے. مگر عاصمہ کی سگرٹ یہود و ہند کی سازشوں کا کھلا ثبوت ہے.
اس وقت پوری دنیا میں نفرت اور زہر بیچنا آسان ہے بنسبت امن اور بھائی چارگی کے. دائیں بازو کی فاشسٹ جماعتیں اپنا لوہا بھی منوا رہی ہیں اور لوگوں کو برین واش بھی کر رہی ہیں. ان ہنگامی حالات میں جب ہم جیسے لوگ جب عاصمہ کو یاد کرتے ہیں، تو ہم یہی یاد کرتے ہیں کہ عاصمہ امن کا پیغام لے کے چل رہی تھیں جس کی وجہ سے انکو جگہ جگہ اپنی بہادری کا سبوت دینا پڑتا تھا. جوانمردی کہوں تو سوچ میں پر جاتی ہوں. کیا یہ صحیح لفظ ہوگا عاصمہ جیسی عورت کے لئے؟ یا جب لوگ کہتے تھے کہ عاصمہ جہانگیر اس ملک کا واحد مرد ہے. کیا تاریفان عاصمہ کو مرد کہنا غلط ہوگا؟ پتہ نہیں.سہیل وڑائچ نے ایک دفعہ عاصمہ سے پوچھا کہ کیا عورت بزدل ہے؟ عاصمہ نے جواب دیا، ‘ہاں اسلئے بزدل ہے کیونکہ عورت جنگیں نہیں کرواتی ہے. عورت امن چاہتی ہے. آجکل جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ عورت کی مرضی سے تو نہیں ہو رہا ہے؟ عورت خون خرابہ نہیں چاہتی. اور اگر امن چاہنابزدلی ہے ، تو پھر عورت بھی بزدل ہے. میں کونگو گئی ہوں، مشرقی تیمور گئی ہوں – عورتوں کی بہادری میں نے دیکھی ہے وہاں بھی جو ایک اور قسم کی بہادری ہے. ”
جارج آرویل کہتے ہیں، ‘جس دور میں جب جھوٹ اور فریب ایک عالمگیری حقیقت بن جاۓ تو وہاں سچ بولنا ایک انقلاب سے کم نہیں.’ عاصمہ کے جانے سے سچ بولنے والوں کا ایک خلا سا پیدا ہوگیا ہے. پاکستان میں اب کون اتنی بیباکی سے بولے گا؟ کون سچ کی خاطر جیل جاۓ گا؟ کون سڑکوں پہ آواز اٹھانے کو اپنا فریضہ سمجھے گا؟ غیرت کے نام پہ قتل ہونے والی ہزاروں عورتوں کے بارے میں کون اپنا سکھ چین برباد کرے گا؟ جیلوں میں موجود عورتوں کے حالات پہ کون توجہ دے گا؟ہماری سیاست جس سمت جا رہی ہے، وہاں حق اور سچ کو بلاۓ طاق رکھا جاتا ہے اور بس اپنا اپنا الو سیدھا کیا جاتا ہے. اس عالم نفسہ نفسی میں کون عاصمہ جہانگیر کی طرح اس دشمن کے لئے بھی آواز اٹھاۓ گا جسکے انسانی حقوق پہ آنچ ا رہی ہو؟ ظلم تو کبھی ختم نہیں ہوگا شاید. مگر مجھے کبھی کبھی دار لگتا ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی آوازیں جب ختم ہوتی ہیں تو انکے ساتھ ساتھ روشنی کا ایک دور بھی ختم ہوتا ہے. پھر بڑی دیر تک خاموشی اور اندھیرا چھایا رہتا ہے.
عاصمہ کہتی تھیں: “لوگ کہتے ہیں روز ہوتا ہے. ہوتا ہوگا روز.مگر کیوں ہو روز؟ نہیں ہونا چاہئے.”
اور شاید انہی کے لئے اور آجکی اس محفل کے لئے ساغر صدیقی کہہ گئے…
چراغ تور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے
وہ جن کے خورشید ہوتے ہیں آستینوں میں
کہیں سے انکو بلاو بڑا اندھیرا ہے
فرازِ عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارا
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ بڑا اندھیرا ہے
بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری
مجھے یقین دلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s